خطابی دلیل

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ایسی دلیل جو زبانی گفتگو سے دی جائے۔ "اب انہوں نے ایک خطابی دلیل بیان کی جیسی دلیلیں آج کل یورپ میں رائج ہیں یہ خطابی دلیل کہلاتی ہیں۔"      ( ١٩٧٤ء، مقالات ایوبی، ٧٣:١ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'خطابی' کے ساتھ عربی زبان سے ہی اسم 'دلیل' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٩٧٤ء میں "مقالات ایوبی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایسی دلیل جو زبانی گفتگو سے دی جائے۔ "اب انہوں نے ایک خطابی دلیل بیان کی جیسی دلیلیں آج کل یورپ میں رائج ہیں یہ خطابی دلیل کہلاتی ہیں۔"      ( ١٩٧٤ء، مقالات ایوبی، ٧٣:١ )

جنس: مؤنث